multan, nawab muzaffar khan

حکومت اپنا وعدہ پورا کرے۔سرائیکی رہنماؤں کا خطاب

ملتان

سرائیکی صوبہ قائم کر کے رنجیت سنگھ کی ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ریاست مدینہ کے دعویداروں کو رنجیت سنگھ کی مجسمہ بنانے کی بجائے نواب مظفر خان کا دربار بنانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار 2 جون سقوط ملتان اور یوم شہادت نواب مظفر خان شہید کے حوالے سے سرائیکی جماعتوں کی طرف سے منعقد کئے گئے سیمینار کے موقع پر سرائیکی رہنماؤں نے کیا۔اس موقع پر سرائیکی شعراء نے انقلابی کلام پیش کیا۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کے چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ، سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانا محمد فراز نون، شریک چیئرمین صوبہ محاز ظہور احمد دھریجہ، پاکستان سرائیکی پارٹی کے صدر ملک اللہ نواز وینس،پاک سر زمین پارٹی کے رہنما کرامت شیخ، نوابزادہ عامر گل خان سدوزئی، احسان احمد خان سدوزئی، حاجی عبدالغفار چاچڑ میاں عامر نقشبندی، میاں عامر شہزاد صدیقی، مخدوم اکبر ہاشمی، حاجی احمد نواز سومرو، ملک اشرف ڈیپال اکرم گھلو، عنایت اللہ مشرقی،ڈاکٹر ظفر ہانس عبدالستار تھہیم، ملک طلال زوہیب، علامہ اقبال وسیم، محمد بخش براٹھا، ملک جاوید چنڑ، شریف خان لشاری، عابد سیال، حاجی عید احمد دھریجہ، زبیر دھریجہ، ثوبیہ ملک، روبینہ بخاری، حافظ واقف ملتانی، عابد ظامی، رضوان قلندری، مقبول کھرل، حاجی ، جمیل علی، صغیر بھٹہ، جعفر شاہ، شعیب نواز بلوچ، سرائیک خان ملتانی، مبشر چوہدری، خواجہ شعیب الحسن، مولانا قاری محمد حنیف و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رنجیت سنگھ کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتے، وسیب کی شناخت اور مکمل حدود پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نواب مظفر خان شہید نے اپنی، اپنی آل اور ملتان کی سپاہ کی قربانی دے دی مگر حملہ آور لعین رنجیت سنگھ کے سامنے ہتھیار نہ ڈال کر اہل ملتان اور مسلمانوں کا سر ہمیشہ کیلئے سر بلند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران جو ریاست مدینہ کے دعویدار ہیں نہایت بے شرمی کے ساتھ لاہور میں رنجیت سنگھ کے مجسمے بنا رہے ہیں اور رنجیت سنگھ کے ماننے والوں کی آو?بھگت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آخری سانسوں تک صوبہ سرائیکستان کی واگزاری کیلئے جدوجہد کریں گے، حکمران اپنے وعدے کے مطابق صوبہ قائم کریں ورنہ آئندہ الیکشن میں ان کا حشر پی پی اور ن لیگ سے بد تر ہوگا۔ اس موقع پر قلعہ کہنہ قاسم باغ پر رنجیت سنگھ کا پتلا نذرِ آتش کیا گیا اور سینکڑوں افراد نے رنجیت سنگھ مردہ باد، نواب مظفر شہید زندہ باد، تیری شان میری شان سرائیکستان سرائیکستان، بہاولپور نہ ملتان صوبہ صرف سرائیکستان کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ سرائیکی رہنماؤں نے حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے مزار کے احاطے میں موجود نواب مظفر خان شہید کی قبر پر سرائیکی چادر چڑھائی اور صوبہ سرائیکستان کے قیام کیلئے دعا کی۔ اس موقع پر قراردادیں منظور کی گئیں جن کے مطابق: نواب مظفر خان کا مقبرہ تعمیر کیا جائے۔چوہدری پرویز الٰہی کارڈیالوجی کا نام نواب مظفر خان شہید رکھا جائے کہ یہ جگہ نواب مظفر خان کی جائے پیدائش اور ان کا شیش محل تھا۔ لاہور میں رنجیت سنگھ کے بنائے گئے مجسمے کو مسمار کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کا قاتل ہے۔قلعہ کہنہ قاسم باغ پر رکھی گئی اس توپ کو ہٹایا جائے جو کہ اہل ملتان کی قاتل اور حملہ آور انگریز سامراج کی یادگار ہے۔قلعہ کہنہ قاسم باغ سے حملہ آور انگریزوں کی قبروں کو ہٹا کر ان شہداء کی یادگار تعمیر کی جائے جنہوں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا۔بلا تاخیر صوبہ سرائیکستان کے قیام کا اعلان کیا جائے اور آنے والے بجٹ میں صوبائی سیکرٹریٹ کیلئے فنڈز مہیا کئے جائیں۔ نواب مظفر خان شہید کو قومی ہیرو قرار دیا جائے اور نصاب کی کتابوں میں ان کیکارناموں کو زندہ کیا جائے۔ملتان کی ابدالی روڈ کا نام نواب مظفر خان شہید روڈ رکھا جائے۔ملتان میں نواب مظفر خان شہید کے نام سے نئی یونیورسٹی قائم کی جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں