Qila darawar

اور گولیاں گاڑی کو لگنا شروع ڈاکو کی کوشش تھی گولی ٹائر کو لگ جائے

تحریر : محمد اظہر حفیظ

عثمان عادل بٹ اللہ کی طرف سے عطا ھونے والے بہترین دوستوں میں سے ایک انعام ھیں۔ میں ھمیشہ کہتاھوں بٹ صاحب آگے سے آواز آتی ھے جی آقا۔ شاید ھی یہ والا رشتہ کسی اور دوست سے بن سکا ھو۔
بٹ صاحب ڈائریکٹر پروگرامز تھے روھی ٹی وی، ایک دن کہنے لگے آقا بیک گراؤنڈ کیلئے اچھی تصاویر نہیں ھیں ایک چکر نہ لگالیں مختصر سا روھی کا۔ جیسے میرا بھائی کہے سب تیاریاں ھوگئیں ، صبح آٹھ بجے نکلنا تھا بٹ صاحب کو پولیس فاونڈیشن نزد بحریہ ٹاون سے لینا تھا ۔ سفر لمبا اور مزیدار تھا، صبح کا آغاز مناسب نہیں تھا، گاڑی مکمل چیک کروائی تھی بریک ڈسک نئی ڈالوئیں سب اچھا تھا جب اسلام آباد ایکسپریس وے پر آیا تو ھر طرف سے گاڑیاں لائٹس اور ھارن دیے رھیں تھیں۔کچھ سمجھ نہ آئے معاملہ کیا ھے، گاڑی سائیڈ پر لگائی تو اگلے ٹائروں سے دھواں نکل رھا تھا فورا کھنہ پل لیکر ایک مستری پاس پہنچا سر ڈسک پلیٹ پر لائنز ھیں اس کو پلین کرنا پڑے گا بجلی نہیں ھے دس بجے تک بجلی آئے گی اللہ اللہ کرکے گیارہ بجے گاڑی ٹھیک ھوئی بٹ صاحب باھر مین پر آگئے تھے اور ھم جی ٹی روڈ سے لاھور کیلئے نکل پڑے، آقا صبح صبح مسائل چل پڑے،اللہ خیر کرے، لالہ موسی بٹ صاحب کے سسرال کچھ سامان دینا تھا دیا اور غالبا حافظ کے لذیذ گلاب جامن کھائے اور اگلے سفر کی تیاری کی ھم تقریبا چار بجے گوجرانوالہ بائی پاس پر تھے اور کچھ فیکٹری مزدوروں نے لوڈ شیڈنگ کے احتجاج میں سڑک بلاک کی ھوئی تھی، تین گھنٹے وھاں کھڑے رھے اور رات آٹھ بجے لاھور روھی کے بیورو پہنچے اینکرز کا شوٹ تھا وہ کیا تقریبا ایک بجے ھم سب کھانا کھانے چلے گئے بہت شاندار افغانی فوڈ تھا اور دو بجے کے قریب ھم دوبارہ سڑک پر تھےآقا گاڑی کھینچیں، سڑک اچھی اور سنسان تھی، میں تقریبا ایک سو بیس کی سپیڈ پر تھا بھائی پھیرو کا بورڈ نظر آیا سامنے اندھیرا اور ھم سپیڈ میں۔ ایسے لگ رھا تھا کہ کوئی فلم دیکھ رھے ھوں گانے سن رھے تھے۔ بٹ صاحب سیگریٹ کے مزے لے رھے تھے میں نے یکدم نیچے ھوکر پسٹل اٹھائی لوڈ کی ۔ آقا خیریت، جی بٹ صاحب گیم شروع ھوگئی ھے۔ سامنے دیکھیں، دور ایک نیلے کاٹن کا سوٹ پہنے اور میچنگ نیلا نقاب لگائے سڑک کے درمیان ڈاکو کھڑا تھا، آقا یہ کون ۔ بٹ جی ڈاکو۔ ساتھ ھی اس نے فائرنگ سٹارٹ کردی۔ اور گولیاں گاڑی کو لگنا شروع اس کی کوشش تھی گولی ٹائر کو لگ جائے، پر نشانہ نہیں لے پا رھا تھا۔ پانچویں گولی اس نے ونڈسکرین پر مجھے ماردی۔ نشانہ بہت شاندار تھا گولی سیدھی ماتھے پر آئی پر ونڈسکرین سے ٹکرا کر سائیڈ پر نکل گئی۔ میں نے گاڑی لہرائی جیسے گولی لگ گئی ھو وہ جو اب پندرہ کے قریب ڈاکو سامنے آچکے تھے بھاگ کر واپس سائیڈ پر ھونا شروع ھوگئے، ھم الحمدللہ محفوظ رھے آقا آپ نے فائر کیوں نہیں کیا۔ ایک ھوتا تو ضرور کرتا پندرہ کی فائرنگ سے ھم چھلنی بن جاتے، واہ واہ آقا آپ تو کمپیوٹر ھیں ملٹی ٹاسکنگ۔ اگلے پیٹرول پمپ پر گاڑی چیک کی اور پھر روانہ ھوگئے۔ سب ٹھیک تھا، بس لائٹیں، بمپر اور ونڈ سکرین ٹوٹی تھی۔
صبح ھم ملتان میں تھے جام شوکت نے ھمارا استقبال کیا ملتان کے اینکرز کا شوٹ مکمل کیا اور جام شوکت کی بائیک پر ھم ملتان دیکھنے نکل گئے، ھنو کا شجہ، پوسٹ آفس۔
شاہ رکن عالم صاحب کے مزار پر سیکورٹی بہت سخت تھی حوالدار صاحب بیگ سمیٹ جانے کی اجازت دینے پر راضی نہیں تھے صاحب سے اجازت لیکر آجائیں۔ جام شوکت کو پہلے ھی کہہ دیا تھا میری جان چپ رھنا ھے ، حوالدار صاحب آپ کے اوپر بھی کوئی عہدہ ھوتا ھے۔ کرنا تو سب آپ نے ھی ھے۔ ھمارےصاحب تو آپ ھی ھیں یوں ایک پولیس والے نے میرا بیگ اٹھایا اور ساتھ ڈیوٹی کرتا رھا ، شاہ شمس تبریز صاحب کے مزار پر پرائیویٹ سیکورٹی تھی سلام دعا کی اندر نہیں جاسکتے، بھائی جانا کون چاھتا ھے، دربار کے منتظم کو بلا دیں ایک بزرگ تشریف لائے میں نے دور سے ھی آواز لگا دی شکریہ مرشد خود لینے آگئے ایک ھزار کلومیٹر دور سے آئے ھیں اور یوں یہاں بھی کام ھوگیا، اور پھرباقی تاریخی مقامات کی فوٹوگرافی کی۔ رات ھوٹل میں قیام کرکے ھم صبح بہاولپور کیلئے روانہ ھوگئے، راستہ اچھا تھا، وھاں یونیورسٹی کے گیسٹ ھاوس میں رھنے کا انتظام تھا اور ریاض بلوچ بھائی ھمارے میزبان تھے، نور محل چلے گئے فوج کے کنٹرول میں تھا وھاں سب کچھ طارق نامی صاحب دیکھ رھے تھے۔ میں نے بھی بلند آواز میں بلایا طارق وہ دوڑا چلا آیا جی سر، یار یہ ٹیبل ھٹواو یہ تصویر میں نہیں چاھیئے پھر سب اپنی مرضی سے چیزیں سیٹ کیں کام مکمل کیا طارق کو سوچتا چھوڑ کر کہ یہ کون لوگ ھیں وھاں سے نکل آئے۔ بٹ صاحب آقا باز آجائیں یہ وارداتیں ٹھیک نہیں ھیں۔ اس کی فوٹوگرافی مکمل کی۔پھر صادق گڑھ پیلس کی فوٹوگرافی کرنے پہنچے اور وہ ھائی کورٹ نے سیل کیا ھوا تھا جی آقا بس چپ رھیں اور فلم دیکھیں پچاس کا نوٹ نیا نوٹ گارڈ کو تھمایا اور دورازے کھل گئے، بٹ صاحب اور بلوچ صاحب چھت پر چلے گئے اور میں اکیلا کام کرنے لگا ھزاروں چوھوں کی آوازیں آنا شروع ھوگئیں پر نظر کچھ نہیں آرھا تھا تھوڑی دیر بعد ھلکے پھلکے دھکے بھی لگنا شروع ھوگئے اور میں ابھی صورتحال کو سمجھ ھی رھا تھا کہ بٹ صاحب بلوچ صاحب کو قابو کرکے نیچے لارھے تھے بولے آقا سین ھیوی ھے جی بٹ صاحب بہت ھیوی، بلوچ تو چھت سے چھلانگ لگانے لگا تھا بڑی مشکل سے بچایا ھے تصویریں بناتے بناتے باھر آرھے تھے کہ شاید کوئی چیز تصویر میں آجائے۔کام ختم کیا اور ھم نکل پڑے دراوڑ فورٹ کیلئے ، ریاض بلوچ بھی سنبھل گیا تھا ڈر دور ھوگیا تھا ۔ ریاض بلوچ ماشاءاللہ بہت پیار کرنے والا دوست ھے انتظام بھی کمال کرتا ھے، دراوڑ فورٹ کے ناظم ھمارے منتظر تھے۔

اعظم خان ناظم دراوڑ فورٹ نے ھمیں چائے پلائی اور وہ چولستان جانے کی تیاری کرنے لگ گئے اور ھم نے دراوڑ فورٹ کی فوٹوگرافی شروع کر دی بڑا دروازہ راھداریاں، کچھ حصہ گرا ھوا تھا کچھ قائم تھا، کہیں بھی ایسے اثار نہیں تھے کہ کوئی اس کی دیکھ بھال کر رھا ھے، فورٹ کی چھت سے اردگرد بہت خوبصورت مناظر ھیں، ایک طرف خوبصورت مسجد ھے اس کے گنبد اور محراب مسجد کو اور خوبصورت بنارھے تھے۔ پھر ھمیں نواب صاحب کی فیملی کا قبرستان نظر آگیا، ریاض بلوچ سر یہ ھے بہت شاندار پر اندر جانے کی اجازت نہیں ھے، کوئی بات نہیں آپ قلعہ دیکھیں میں باھر سے ایک تصویر بنا کر آیا، آگے آیا تو ایک بابا جی بطور گارڈ تالہ لگائے بیٹھے تھے حال احوال پوچھا۔ بابا جی یہاں کوئی چائے کا انتظام ھے چائے تو پلائیں سو روپے انکو پیش کئے وہ چائے کیلئے جانے لگے تو پوچھا اس دروازے کے اندر نواب خاندان کی قبریں ھیں۔ بابا جی کیا دیکھ سکتے ھیں ، جی ضرور پر تصویر بنانے کی اجازت نہیں کوئی بات نہیں دکھا دیں بابا جی نے تالا کھولا خود چائے لینے چلے گئے پھر میں تھا اور خوبصورت قبریں، مزار، بچوں کی قبریں بڑوں کی قبریں ان پر بہت خوبصورت کام ھوا ھوا تھا اندر ھال میں بہت ساری قبریں تھیں جن پر گولڈن رنگ نمایاں تھا اور باھر اکیلی اکیلی قبریں تھی جن کی عمارات اینٹ اور نیلی ٹائل سے بنی ھوئیں تھیں۔ اگر آپ کا جانا دراوڑ فورٹ ھو تو فورٹ بے شک نہ دیکھیں پر یہ قبرستان دیکھنا بہت ضروری ھے۔ جلدی جلدی کام کیا اور باھر آگیا بابا جی چائے لے آئے ، بابا جی آپ چائے پیئں مجھے اجازت دیں، صاب تسی بہت اچھے ھو فوٹو بنادے تے بڑی سختی ھونی سی اور اب ھم اعظم خان صاحب کی ڈبل کیبن گاڑی میں چولستان کے اندر داخل ھورھے تھے فوجی چوکی سے اجازت لی اور اندر چولستان میں بے شمار اونٹ ھمارے انتظار میں تھے۔ مختلف خاندانوں سے ملے فوٹوگرافی کی اونٹوں کے ساتھ سفر کیا ٹوبہ پر انکی تصاویر اتاریں، چولستان کی دنیا مختلف ھے۔ھر گھر نے اونٹنی کے دودھ کی کھیر کی دعوت دی ساتھ بتایا اونٹنی کا دودھ تھوڑا نمکیں ھوتا ھے۔ چولستان کی خوبصورتی اور زندگی کو عکس بند کیا اور واپس دراوڑ فورٹ کو چل پڑے، کھانا تیار تھا۔ اندھیرا ھوچکا تھا دو طرح کے سالن تھے جو کہ اعظم خان صاحب کے پاس پڑے تھے مکمل اندھیرا تھا، ایک خشک روٹی میں نے کھائی ایک بٹ صاحب نے ھم دونوں مسکرا رھے تھے کیونکہ سالن ھماری پہنچ سے باھر تھا، اعظم خان صاحب اظہر بھائی اور روٹی لیں بھائی بغیر سالن مشکل ھورھی ھے کیوں سالن ختم ھوگیا جی پتہ نہیں رکھا کہاں ھے پھر اندر سے لالٹین منگوائی گئی اور نئے سرے سے کھانا کھانا شروع کیا، اب ریاض بلوچ گاڑی چلا رھا تھا اور ھم بہاولپور واپس جارھے تھے۔ صبح اٹھے بہاولپور لائبریری، میوزیم، بازار، وکٹوریہ ھسپتال سب کی فوٹوگرافی کی اور رات کا کھانا کھایا۔ قاضی صاحب جو کہ میوزیم کے انچارچ بھی تھے اور بہت ادبی انسان تھے انکے گھر پر کھایا، اور واپسی کی راہ لی۔ جھنگ روڈ پر رک کر بلوچستان ھوٹل سے روش اور نمکین گوشت کھایا شدید لذیذ چیز ھے واقعی بلوچستان کی یاد دلوا دی، اور پھر میوزک تھا بٹ صاحب تھے اور لانگ ڈرائیو، ایک نابھولنے والا سفر، تیس سال سے فوٹوگرافی کے سفر میں ھوں اس سفر میں پہلا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اس کو زیادہ اھمیت نہیں دی۔ بلکہ اھمیت بنتی بھی نہیں تھی۔ شکریہ پاکستان اور عوام پاکستان ھمیشہ خلوص، محبت اور چاھت سے پیش آنے کا۔ ھم نے تو ایف آئی آر بھی درج نہیں کرائی۔ کیونکہ پہلے سب اچھی مسافتوں کا شکریہ بھی تو ادا نہیں کیا تھا،
بٹ صاحب سے دوستی اور گہری ھوگئی کیونکہ موت کو آتے اور جاتے ایک ساتھ دیکھا تھا۔
کبھی کبھی بٹ صاحب کا فون آتا ھے آقا کوئی باریک جلیبیاں کھانی ھیں تو آجائیں۔ دیدار ھی کرادیں۔ یوں یہ ایک سفر اختتام پذیر ھوا اور الحمدللہ اگلے سفر برائے فوٹوگرافی کی تیاری ھے۔

تحریر : محمد اظہر حفیظ

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں